معرکہ یرموک: تاریخ کا فیصلہ کن موڑ
اسلامی تاریخ میں بہت سے معرکے ایسے ہیں جنہوں نے دنیا کی سیاسی اور جغرافیائی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا۔ معرکہ یرموک انہی میں سے ایک ہے، جو 636 عیسوی میں مسلمانوں اور بازنطینی (رومی) سلطنت کے درمیان لڑی گئی۔ یہ جنگ اس قدر فیصلہ کن تھی کہ اس کے بعد شام، فلسطین اور اردن ہمیشہ کے لیے اسلامی سلطنت کا حصہ بن گئے، اور رومی سلطنت کو مشرقی بحیرہ روم کے وسیع علاقوں سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہونا پڑا۔ پس منظر اور جنگ کے اسباب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلامی سلطنت کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں ہی مسلمان فوجیں شام اور فلسطین کے علاقے میں داخل ہو چکی تھیں اور بازنطینی فوج کو کئی مقامات پر شکست ہو چکی تھی۔ جب حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ بنے، تو بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ ہرقل (Heraclius) نے اپنی سلطنت کی بقا کے لیے بھرپور جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کی، جس میں بازنطینی، عرب عیسائی، آرمینیائی اور دیگر قوموں کے سپاہی شامل تھے۔ یرموک کے میدان میں فوجی طاقت کا موازنہ یرموک کے میدان میں پہنچنے کے بعد دونوں افواج کی طاقت کا موازنہ غیر متوازن دکھائ...